السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المبارزة باب: مبارزت (میدانِ جنگ میں تن بہ تن مقابلے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ ⦗٢٢٣⦘ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: خَرَجَ، يَعْنِي يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ وُدٍّ، فَنَادَى: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مُقَنَّعٌ فِي الْحَدِيدِ، فَقَالَ: أَنَا لَهَا يَا نَبِيَّ اللهِ. فَقَالَ: " إِنَّهُ عَمْرٌو اجْلِسْ ". وَنَادَى عَمْرٌو: أَلَا رَجُلٌ؟ وَهُوَ يُؤَنِّبُهُمْ وَيَقُولُ: أَيْنَ جَنَّتُكُمُ الَّتِي تَزْعُمُونَ أَنَّهُ مَنْ قُتِلَ مِنْكُمْ دَخَلَهَا؟ أَفَلَا يَبْرُزُ إِلِيَّ رَجُلٌ؟ فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ. فَقَالَ: " اجْلِسْ ". ثُمَّ نَادَى الثَّالِثَةَ وَذَكَرَ شِعْرًا، فَقَامَ عَلِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنَا. فَقَالَ: " إِنَّهُ عَمْرٌو ". قَالَ: وَإِنْ كَانَ عَمْرًا. فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَشَى إِلَيْهِ حَتَّى أَتَاهُ وَذَكَرَ شِعْرًا فَقَالَ لَهُ عَمْرٌو: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا عَلِيٌّ. قَالَ: ابْنُ عَبْدِ مَنَافٍ؟ فَقَالَ: أَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ. فَقَالَ: غَيْرُكَ يَا ابْنَ أَخِي مِنْ أَعْمَامِكَ مَنْ هُوَ أَسَنُّ مِنْكَ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُهَرِيقَ دَمَكَ. فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَكِنِّي وَاللهِ مَا أَكْرَهُ أَنْ أُهَرِيقَ دَمَكَ. فَغَضِبَ فَنَزَلَ وَسَلَّ سَيْفَهُ كَأَنَّهُ شُعْلَةُ نَارٍ، ثُمَّ أَقْبَلَ نَحْوَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُغْضَبًا، وَاسْتَقْبَلَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدَرَقَتِهِ فَضَرَبَهُ عَمْرٌو فِي الدَّرَقَةِ، فَقَدَّهَا وَأَثْبَتَ فِيهَا السَّيْفَ وَأَصَابَ رَأْسَهُ فَشَجَّهُ، وَضَرَبَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى حَبْلِ الْعَاتِقِ فَسَقَطَ وَثَارَ الْعَجَاجُ، وَسَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّكْبِيرَ، فَعَرَفَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ قَتَلَهُ.ابن اسحاق کہتے ہیں کہ خندق کے دن عمرو بن عبد ود نکلا، اس نے مقابلہ کی دعوت دی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوہے میں ڈھکے ہوئے تھے، کہنے لگے: ”اے اللہ کے نبی! میں اس کا مقابلہ کرتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عمرو ہے، بیٹھ جاؤ۔“ عمرو نے پھر آواز دی: ”کیا کوئی مرد نہیں ہے؟“ وہ ان کو متنبہ کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا: ”تمہاری وہ جنت کہاں ہے جس کا تم گمان کرتے ہو؟ کہ تم میں سے جو قتل کیا جائے وہ اس میں داخل ہو جائے گا، کیا کوئی شخص میرا مقابلہ نہیں کرے گا؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں مقابلہ کرتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ پھر تیسری مرتبہ اس نے آواز دی اور اشعار پڑھے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے: ”اے اللہ کے رسول! میں مقابلہ کرتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ عمرو ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: ”اگرچہ عمرو ہی ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اجازت دے دی تو وہ چل کر اس کے پاس گئے اور اشعار پڑھے۔ عمرو نے پوچھا: ”تو کون ہے؟“ انہوں نے کہا: ”میں علی ہوں۔“ اس نے کہا: ”ابن عبد مناف؟“ انہوں نے کہا: ”میں علی بن ابی طالب ہوں۔“ اس نے کہا: ”اے بھتیجے! کیا تیرے چچاؤں میں سے تیرے علاوہ کوئی بڑی عمر کا نہیں ہے؟ کیونکہ میں تیرا خون بہانا ناپسند کرتا ہوں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”لیکن اللہ کی قسم! میں تجھے قتل کرنے میں کراہت محسوس نہیں کرتا۔“ وہ غصے سے نیچے اتر پڑا اور اپنی تلوار کو سونتا گویا کہ وہ آگ کا شعلہ ہے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب غصے کی حالت میں آیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کا سامنا اپنی ڈھال کے ذریعے کیا۔ عمرو نے ڈھال پر تلوار ماری تو تلوار نے ڈھال کو توڑ ڈالا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا سر بھی زخمی ہوا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے کندھے پر تلوار ماری، وہ گر پڑا اور اس کی چیخ بلند ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے تکبیر کی آواز سنی تو پہچان گئے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر دیا ہے۔