حدیث نمبر: 18345
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، أَحَدُ بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجَ مَرْحَبٌ الْيَهُودِيُّ مِنْ حِصْنِ خَيْبَرَ وَقَدْ جَمَعَ سِلَاحَهُ وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لِهَذَا؟ " فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ: أَنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا وَاللهِ الْمَوْتُورُ الثَّائِرُ، قَتَلُوا أَخِي بِالْأَمْسِ. قَالَ: " قُمْ إِلَيْهِ، اللهُمَّ أَعِنْهُ عَلَيْهِ ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي كَيْفِيَّةِ قِتَالِهِمَا، قَالَ: وَضَرَبَهُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَتَّى قَتَلَهُ. قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: خَرَجَ يَاسِرٌ فَبَرَزَ لَهُ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لَمَّا خَرَجَ إِلَيْهِ الزُّبَيْرُ: يَا رَسُولَ اللهِ يَقْتُلُ ابْنِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بَلِ ابْنُكِ يَقْتُلُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ ". فَخَرَجَ الزُّبَيْرُ وَهُوَ يَرْتَجِزُ، ثُمَّ الْتَقَيَا فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ، قَالَ: وَكَانَ ذَكَرَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هُوَ قَتَلَ يَاسِرًا كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ هُوَ قَتَلَ مَرْحَبًا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خیبر کے قلعہ سے مرحب یہودی اپنے اسلحہ سے لیس ہو کر اشعار پڑھتے ہوئے نکلا، وہ کہہ رہا تھا: کون میرا مقابلہ کرے گا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کون اس کے مقابلے میں آئے گا؟“ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم میں اس کو موت کے گھاٹ اتاروں گا؛ کیونکہ اس نے کل میرے بھائی کو قتل کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کھڑے ہو جاؤ۔“ اور دعا دی: «اللَّهُمَّ أَعِنْهُ» ”اے اللہ! اس کی مدد فرما۔“ ان دونوں کی لڑائی کی کیفیت کو اس نے حدیث میں ذکر کیا، کہتے ہیں کہ سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر دیا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: پھر یاسر نکلا تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کا مقابلہ کیا۔ جب سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نکلے تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بیٹا قتل کر لے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ نے چاہا تو تیرا بیٹا ہی اس کو قتل کرے گا۔“ پھر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ رجزیہ اشعار پڑھتے ہوئے نکلے، پھر ان دونوں کی لڑائی ہوئی تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کو قتل کر دیا۔ راوی کہتے ہیں: اس طرح اس نے ذکر کیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یاسر کو قتل کیا اور سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے مرحب کو قتل کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18345
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ تقدم برقم ١٨١٠٨»