السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المبارزة باب: مبارزت (میدانِ جنگ میں تن بہ تن مقابلے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 18343
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا شَبَابَةُ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قِصَّةِ بَدْرٍ قَالَ: فَبَرَزَ عُتْبَةُ وَأَخُوهُ وَابْنُهُ الْوَلِيدُ حَمِيَّةً فَقَالَ: مَنْ يُبَارِزُ؟ فَخَرَجَ مِنَ الْأَنْصَارِ شَبَبَةٌ، فَقَالَ عُتْبَةُ: لَا نُرِيدُ هَؤُلَاءِ وَلَكِنْ يُبَارِزُنَا مِنْ بَنِي عَمِّنَا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُمْ يَا عَلِيُّ، قُمْ يَا حَمْزَةُ، قُمْ يَا عُبَيْدَةُ بْنَ الْحَارِثِ ". فَقَتَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عُتْبَةَ وَشَيْبَةَ ابْنَيْ رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدَ بْنَ عُتْبَةَ، وَجُرِحَ عُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ فَقَتَلْنَا مِنْهُمْ سَبْعِينَ وَأَسَرْنَا سَبْعِينَ. وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.حافظ ثناء اللہ
حارثہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بدر کے قصے کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ عتبہ اور اس کے بھائی اور اس کے بیٹے ولید نے غیرت سے مقابلے کی دعوت دی کہ کون مقابلہ کرے گا۔ انصاری جوان مقابلے میں آئے۔ عتبہ نے کہا: ان کا ہم نے قصد نہیں کیا، بلکہ ہمارے مقابلے میں ہمارے چچا کے بیٹے یعنی بنو عبدالمطلب آئیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے علی، حمزہ، عبیدہ بن حارث (رضی اللہ عنہم)! کھڑے ہو جاؤ۔“ اللہ رب العزت نے عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو ہلاک کر ڈالا اور سیدنا عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے، ستر کافر ہم نے قتل کیے اور ستر ہی قیدی بنائے۔