السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ترك أخذ المشركين بما أصابوا باب: مشرکین نے (زمانہ کفر میں مسلمانوں کا) جو جانی و مالی نقصان کیا ہو اس پر ان کا مؤاخذہ ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18292
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا كُنَّا نَعْمَلُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ فَقَالَ: " مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخَرِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ. وَإِنَّمَا أَرَادَ بِهِ فِي الْآخِرَةِ وَكَأَنَّهُ جَعَلَ الْإِيمَانَ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ كُفْرِهِ، وَجَعَلَ الْعَمَلَ الصَّالِحَ بَعْدُ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ سِوَى كُفْرِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے جاہلیت کے کاموں کا مؤاخذہ کیا جائے گا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اسلام میں اچھے کام کیے، اس کے جاہلیت کے کاموں کا مؤاخذہ نہ ہوگا اور جس نے برائی کی اس کے پہلے اور آخری تمام کاموں کا مؤاخذہ کیا جائے گا۔“
اس سے آپ ﷺ کی مراد صرف آخرت تھی؛ گویا آپ ﷺ نے ایمان کو اس کے سابقہ کفر کا کفارہ بنایا اور بعد کے نیک اعمال کو کفر کے علاوہ اس کے باقی تمام سابقہ گناہوں کا کفارہ بنایا۔