السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ترك أخذ المشركين بما أصابوا باب: مشرکین نے (زمانہ کفر میں مسلمانوں کا) جو جانی و مالی نقصان کیا ہو اس پر ان کا مؤاخذہ ترک کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18291
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٢٠٧⦘ عَبْدِ الْوَاحِدِ النَّحْوِيُّ غُلَامُ ثَعْلَبٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى الْأَسَدِيُّ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: " مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ خَلَّادِ بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمارا مؤاخذہ ان کاموں پر کیا جائے گا جو جاہلیت میں کیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اسلام میں اچھا ہوا اس کے جاہلیت کے کاموں کا مؤاخذہ نہ کیا جائے گا اور جو اسلام میں اچھا نہ ہوا اس کے پہلے اور بعد والے کاموں کا مؤاخذہ کیا جائے گا۔“