السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: فتح مكة حرسها الله تعالى باب: فتح مکہ کا بیان، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ أَبِي قُحَافَةَ وَابْنَةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ كَانَتْ تَقُودُهُ يَوْمَ الْفَتْحِ، حَتَّى إِذَا هَبَطَتْ بِهِ إِلَى الْأَبْطَحِ لَقِيَتْهَا الْخَيْلُ وَفِي عُنُقِهَا طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ، فَاقْتَطَعَهُ إِنْسَانٌ مِنْ عُنُقِهَا، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى جَاءَ بِأَبِيهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِسْلَامِهِ، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ وَالْإِسْلَامِ طَوْقَ أُخْتِي. فَوَاللهِ مَا أَجَابَهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ فَمَا أَجَابَهُ أَحَدٌ فَقَالَ: يَا أُخَيَّةُ احْتَسِبِي طَوْقَكِ فَوَاللهِ إِنَّ الْأَمَانَةَ الْيَوْمَ فِي النَّاسِ لَقَلِيلٌ. وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُمْ لَمْ يَغْنَمُوا شَيْئًا، وَأَنَّهَا فُتِحَتْ صُلْحًا إِذْ لَوْ فُتِحَتْ عَنْوَةً لَكَانَتْ وَمَا مَعَهَا غَنِيمَةً، وَلَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَطْلُبُ طَوْقَهَا.سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما اپنے والد ابوقحافہ اور ان کی چھوٹی بیٹی کے بارے میں فرماتی ہیں کہ وہ فتح کے دن اونٹ چلا رہی تھی۔ جب وہ ابطح سے نیچے اتری تو اسے ایک شہسوار ملا، اس کے گلے میں چاندی کا ہار تھا۔ کسی انسان نے اس کی گردن سے اسے کاٹ لیا۔ جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کو لے کر آئے۔ ان کے اسلام کے بارے میں حدیث ذکر کی۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمانے لگے: ”میں انہیں اللہ اور اسلام کی قسم دیتا ہوں، یہ ہار میری بہن کا ہے۔“ اللہ کی قسم! کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر انہوں نے دوسری مرتبہ کہا، تب بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر فرمایا: ”اے بہن! صبر کرو، اللہ کی قسم! آج لوگوں میں امانت داری کم ہے۔“ یہ دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے غنیمت حاصل نہ کی، بلکہ صلح کی فتح تھی۔ اگر زبردستی فتح ہوئی تو غنیمت بھی ہوتی، ان کے پاس غنیمت کا مال نہ تھا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہار کا مطالبہ نہ کیا۔