❮
❯
حدیث نمبر: 18283
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قِصَّةِ أَبِي قُحَافَةَ وَابْنَةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ كَانَتْ تَقُودُهُ يَوْمَ الْفَتْحِ، حَتَّى إِذَا هَبَطَتْ بِهِ إِلَى الْأَبْطَحِ لَقِيَتْهَا الْخَيْلُ وَفِي عُنُقِهَا طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ، فَاقْتَطَعَهُ إِنْسَانٌ مِنْ عُنُقِهَا، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى جَاءَ بِأَبِيهِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِسْلَامِهِ، ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللهِ وَالْإِسْلَامِ طَوْقَ أُخْتِي. فَوَاللهِ مَا أَجَابَهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ فَمَا أَجَابَهُ أَحَدٌ فَقَالَ: يَا أُخَيَّةُ احْتَسِبِي طَوْقَكِ فَوَاللهِ إِنَّ الْأَمَانَةَ الْيَوْمَ فِي النَّاسِ لَقَلِيلٌ. وَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُمْ لَمْ يَغْنَمُوا شَيْئًا، وَأَنَّهَا فُتِحَتْ صُلْحًا إِذْ لَوْ فُتِحَتْ عَنْوَةً لَكَانَتْ وَمَا مَعَهَا غَنِيمَةً، وَلَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَطْلُبُ طَوْقَهَا.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما ابوقحافہ اور ان کی ایک بیٹی کے بارے میں، جو ان کی سب سے چھوٹی اولاد میں سے تھی، فرماتی ہیں کہ وہ فتح کے دن انہیں (ہاتھ پکڑ کر) لے جا رہی تھی۔ جب وہ انہیں لے کر ابطح میں اتری تو اسے گھڑ سوار ملے، اس کے گلے میں چاندی کا ہار تھا۔ کسی انسان نے اس کی گردن سے اسے کاٹ لیا۔ جب رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کو لے کر آئے۔ ان کے اسلام کے بارے میں حدیث ذکر کی۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ لیا اور فرمانے لگے: ”میں تمہیں اللہ اور اسلام کی قسم دیتا ہوں، میری بہن کا ہار (واپس کر دو)۔“ اللہ کی قسم! کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر انہوں نے دوسری مرتبہ کہا، تب بھی کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر فرمایا: ”اے پیاری بہن! اپنے ہار پر اللہ سے اجر کی امید رکھو، اللہ کی قسم! آج لوگوں میں امانت داری کم ہے۔“
یہ دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے غنیمت حاصل نہ کی، بلکہ صلح کی فتح تھی۔ اگر زبردستی فتح ہوتی تو وہ اور اس کے پاس جو کچھ تھا غنیمت ہوتا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے ہار کا مطالبہ نہ کرتے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18283
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»