السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: جواز انفراد الرجل والرجال بالغزو في بلاد العدو استدلالا بجواز التقدم على الجماعة وإن كان الأغلب أنها ستقتله باب: دشمن کے علاقے میں کسی ایک یا چند افراد کا جہاد کرنا جائز ہے، اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ جماعت سے آگے بڑھ کر حملہ کرنا جائز ہے، اگرچہ غالب گمان یہی ہو کہ دشمن انہیں قتل کر دے گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ تَخَلَّفَ عَنْ أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُونَةَ، فَرَأَى الطَّيْرَ عُكُوفًا عَلَى مَقْتَلَةِ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ لِعَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ: سَأَتَقَدَّمُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْعَدُوِّ فَيَقْتُلُونَنِي وَلَا أَتَخَلَّفُ عَنْ مَشْهَدٍ قُتِلَ فِيهِ أَصْحَابُنَا، فَفَعَلَ فَقُتِلَ، فَرَجَعَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا حَسَنًا، وَيُقَالُ قَالَ لِعَمْرٍو: " فَهَلَّا تَقَدَّمْتَ فَقَاتَلْتَ حَتَّى تُقْتَلَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ سَرِيَّةً وَحْدَهُمَا، وَبَعَثَ عَبْدَ اللهِ بْنَ أُنَيْسٍ سَرِيَّةً وَحْدَهُ، وَقَدْ ذَكَرْنَا إِسْنَادَهُمَا فِي هَذَا الْكِتَابِ.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص بئرِ معونہ کے ساتھیوں سے پیچھے رہ گیا۔ اس نے دیکھا کہ پرندے اس کے ساتھیوں کی لاشوں پر ٹھہرے ہوئے ہیں تو اس نے عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں بھی اپنے دشمنوں سے لڑوں گا یہاں تک کہ وہ مجھے قتل کر دیں اور اپنے ساتھیوں کی قتل گاہ سے پیچھے نہ ہٹوں گا۔“ اس نے ایسا ہی کیا، وہ شہید کر دیا گیا تو عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے واپس آ کر نبی ﷺ کو بتایا۔ آپ ﷺ نے اس کے بارے میں اچھی بات کہی۔ آپ ﷺ نے عمرو رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا تو آگے بڑھ کر قتال نہیں کرتا یہاں تک کہ تجھے قتل کر دیا جائے؟“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری کو لشکر بنا کر روانہ فرمایا اور عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کو اکیلے ہی سریہ بنا کر روانہ فرمایا۔