السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: جواز انفراد الرجل والرجال بالغزو في بلاد العدو استدلالا بجواز التقدم على الجماعة وإن كان الأغلب أنها ستقتله باب: دشمن کے علاقے میں کسی ایک یا چند افراد کا جہاد کرنا جائز ہے، اس بات سے استدلال کرتے ہوئے کہ جماعت سے آگے بڑھ کر حملہ کرنا جائز ہے، اگرچہ غالب گمان یہی ہو کہ دشمن انہیں قتل کر دے گا۔
حدیث نمبر: 18198
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَ: لَمَّا الْتَقَى النَّاسُ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ عَوْفُ ابْنُ عَفْرَاءَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا يُضْحِكُ الرَّبَّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ عَبْدِهِ؟ قَالَ: " أَنْ يَرَاهُ قَدْ غَمَسَ يَدَهُ فِي الْقِتَالِ يُقَاتِلُ حَاسِرًا ". فَنَزَعَ عَوْفٌ دِرْعَهُ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ.حافظ ثناء اللہ
عاصم بن عمر بن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لوگوں کی بدر کے دن دشمن سے جنگ ہوئی تو سیدنا عوف بن عفراء بن حارث رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی کس ادا پر مسکراتے ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب بندے کو دیکھتے ہیں کہ وہ ننگے بدن لڑائی میں کود پڑتا ہے۔“ تو سیدنا عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ اتار دی، پھر آگے بڑھ کر لڑائی کی، یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔