حدیث نمبر: 18174
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ، وَأَبُو صَادِقٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَجَرْتُ حَمْوَيْنِ لِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَدَخَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَتَفَلَّتَ عَلَيْهِمَا لِيَقْتُلَهُمَا، وَقَالَ: لِمَ تُجِيرِي الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَتْ: وَاللهِ لَا تَقْتُلُهُمَا حَتَّى تَبْدَأَ بِي قَبْلَهُمَا. فَخَرَجَتْ، وَقَالَتْ: أَغْلِقُوا دُونَهُ الْبَابَ، وَذَهَبَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُ، فَقَالَ: " مَا كَانَ ذَلِكَ لَهُ، وَقَدْ أَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ وَأَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ ".حافظ ثناء اللہ
ابو مرہ، عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے غلام فرماتے ہیں کہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے اپنے دو مشرک دیوروں کو پناہ دی تو علی رضی اللہ عنہ نے دونوں کے قتل کا ارادہ کیا اور کہا: تو نے مشرکین کو کیوں پناہ دی ہے۔ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے کہا: ان کے قتل سے پہلے مجھے قتل کرو۔ وہ جانے لگی تو (علی رضی اللہ عنہ نے) فرمایا: ان کا دروازہ بند کر دو۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام ہانی! اسے کیا ہے؟ جس کو تو نے امن دیا ہم بھی امن دیتے ہیں، جس کو تو نے پناہ دی ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔“