حدیث نمبر: 18173
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو سُلَيْمَانَ دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ بِخَسْرُوجَرْدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ أَبِي النَّضْرِ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ عَلَيْهَا السَّلَامُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، قَالَتْ: فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ: " مَنْ هَذِهِ؟ ". فَقُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: " مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ ". فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانَ بْنَ هُبَيْرَةَ. قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ ". قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ: وَذَلِكَ ضُحًى. " لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَفِي حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ، وَالْبَاقِي سَوَاءٌ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ

سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، جب میں وہاں پہنچی تو آپ ﷺ غسل فرما رہے تھے اور آپ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک کپڑے کے ساتھ آپ ﷺ کے لیے پردہ کیا ہوا تھا، میں نے سلام کیا تو آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کون ہے؟“ میں نے جواب دیا: میں ام ہانی بنت ابی طالب ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ام ہانی کے لیے خوش آمدید!“ جب آپ ﷺ غسل سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر ایک کپڑے میں لپٹ کر آٹھ رکعت نفل ادا کیے، پھر میری جانب متوجہ ہوئے، میں نے عرض کیا کہ میرا بھائی علی رضی اللہ عنہ کہتا ہے کہ وہ ایک شخص فلاں بن ہبیرہ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جسے میں نے پناہ دی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام ہانی! جس شخص کو تو نے پناہ دی ہے، اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں۔“ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ چاشت کا وقت تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18173
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»