حدیث نمبر: 18170
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأُمَوِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كُنَّا مُصَافِّي الْعَدُوِّ. قَالَ: فَكَتَبَ عَبْدٌ فِي سَهْمٍ أَمَانًا لِلْمُشْرِكِينَ فَرَمَاهُمْ بِهِ، فَجَاءُوا فَقَالُوا: قَدْ أَمَّنْتُمُونَا. قَالُوا: لَمْ نُؤَمِّنْكُمْ إِنَّمَا أَمَّنَكُمْ عَبْدٌ. فَكَتَبُوا فِيهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّ الْعَبْدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَذِمَّتُهُ ذِمَّتُهُمْ، وَأَمَّنَهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
فضیل بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم دشمن کا مقابلہ کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ ایک غلام نے مشرکین کو اپنے حصہ کی پناہ دی۔ مسلمانوں نے ان کی پناہ قبول نہ کی۔ مشرکین نے آ کر کہا: ”تم نے ہمیں پناہ دی ہے“، صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: ”ہم تمہیں پناہ نہ دیں گے، تمہیں غلام نے پناہ دی ہے“، تو مشرکین نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”غلام مسلمانوں میں سے ہیں، ان کی پناہ مسلمانوں کی پناہ شمار کی جائے گی“، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشرکین کو پناہ دی۔