السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ترك قتل من لا قتال فيه من الرهبان والكبير وغيرهما باب: راہبوں، بوڑھوں اور ان جیسے دیگر افراد کو قتل نہ کرنے کا بیان جو جنگ میں حصہ نہیں لیتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ جُيُوشًا إِلَى الشَّامِ، فَخَرَجَ يَمْشِي مَعَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، وَكَانَ أَمِيرَ رُبْعٍ مِنْ تِلْكَ الْأَرْبَاعِ، فَزَعَمُوا أَنَّ يَزِيدَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِمَّا أَنْ تَرْكَبَ وَإِمَّا أَنْ أَنْزِلَ. فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا أَنْتَ بِنَازِلٍ وَلَا أَنَا بِرَاكِبٍ، إِنِّي أَحْتَسِبُ خُطَايَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ ". قَالَ: " إِنَّكَ سَتَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ لِلَّهِ فَذَرْهُمْ وَمَا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ لَهُ، وَسَتَجِدُ قَوْمًا فَحَصُوا عَنْ أَوْسَاطِ رُءُوسِهِمْ مِنَ الشَّعْرِ، فَاضْرِبْ مَا فَحَصُوا عَنْهُ بِالسَّيْفِ، وَإِنِّي مُوصِيكَ بِعَشْرٍ: لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً، وَلَا صَبِيًّا، وَلَا كَبِيرًا هَرِمًا، وَلَا تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا، وَلَا تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا، وَلَا تَعْقِرَنَّ شَاةً وَلَا بَعِيرًا إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ، وَلَا تَحْرِقَنَّ نَخْلًا وَلَا تُغَرِّقَنَّهُ، وَلَا تَغْلُلْ، وَلَا تَجْبُنْ ". وَرُوِّينَا فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمَا مَضَى فِي مَسْأَلَةِ التَّحْرِيقِ،.یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی جانب لشکر روانہ کیے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیدل چلے، وہ لشکر کے چوتھائی حصے پر امیر مقرر تھے۔ انہوں نے گمان کیا کہ آپ سوار ہو جائیں گے، انہوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ سوار ہو جائیں یا پھر میں بھی پیدل چلتا ہوں، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہ تم سواری سے اترو گے اور نہ ہی میں سوار ہوں گا، میں تو ان قدموں کے ذریعے اللہ کی راہ میں ثواب کی نیت کرتا ہوں۔“ پھر فرمایا: ”عنقریب تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جن کا گمان ہوگا کہ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے وقف کر رکھا ہے، ان کو چھوڑ دینا اور جس حال پر ان کا گمان ہو کہ انہوں نے اپنے آپ کو الگ کیا ہوا ہے اسے بھی رہنے دینا۔ اور تم ایسی قوم کو پاؤ گے جنہوں نے اپنے سروں پر بالوں کے گھونسلے بنا رکھے ہوں گے تو ان (حصوں) کو تلوار سے کاٹ ڈالنا۔ اور میں تجھے دس نصیحتیں کرتا ہوں: تم کسی عورت، بچے اور بوڑھے کو قتل نہ کرنا، کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا، آباد زمین کو برباد و ویران نہ کرنا، کسی بکری یا اونٹ کو صرف کھانے کے لیے ذبح کرنا، کسی شہد کی مکھی کو نہ جلانا اور نہ ڈبونا، نہ خیانت کرنا اور نہ بزدلی دکھانا۔“