السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: تحريم قتل ما له روح إلا بأن يذبح فيؤكل باب: کسی بھی جاندار کو قتل کرنے کی حرمت کا بیان، سوائے اس کے کہ اسے ذبح کر کے کھایا جائے۔
حدیث نمبر: 18136
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي الَّذِي أَرْضَعَنِي وَكَانَ أَحَدَ بَنِي مُرَّةَ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: وَاللهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ مُؤْتَةَ حِينَ اقْتَحَمَ عَنْ فَرَسٍ لَهُ شَقْرَاءَ فَعَقَرَهَا، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ".حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے والد جنہوں نے مجھے دودھ پلوایا وہ مرہ بن عوف کے ایک شخص تھے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! گویا کہ میں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی طرف غزوۂ موتہ کے دن دیکھ رہا ہوں جس وقت وہ اپنے شقراء گھوڑے سے نیچے کود پڑے اور اسے ذبح کر دیا، پھر آگے بڑھ کر لڑے یہاں تک کہ شہید کر دیے گئے۔