السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: تحريم قتل ما له روح إلا بأن يذبح فيؤكل باب: کسی بھی جاندار کو قتل کرنے کی حرمت کا بیان، سوائے اس کے کہ اسے ذبح کر کے کھایا جائے۔
حدیث نمبر: 18135
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا خَالِدُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ اللَّخْمِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي رُهْمٍ السَّمَاعِيِّ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ عَقَرَ بَهِيمَةً ذَهَبَ رُبْعُ أَجْرِهِ، وَمَنْ حَرَّقَ نَخْلًا ذَهَبَ رُبْعُ أَجْرِهِ، وَمَنْ غَاشَّ شَرِيكَهُ ذَهَبَ رُبْعُ أَجْرِهِ، وَمَنْ عَصَى إِمَامَهُ ذَهَبَ أَجْرُهُ كُلُّهُ ". فِي هَذَا الْإِسْنَادِ ضَعْفٌ، وَفِي الْأَوَّلِ كِفَايَةٌ.حافظ ثناء اللہ
ابو رہم سماعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے چوپائے کو ذبح کیا، اس کا چوتھائی حصہ اجر ختم ہو گیا۔ جس نے شہد کی مکھی کو جلایا، اس کا بھی چوتھائی حصہ اجر ختم ہو گیا اور جس شخص نے اپنے حصہ دار انسان سے دھوکا کیا اس کا بھی چوتھائی اجر ختم ہو گیا اور جس نے امام کی نافرمانی کی اس کا مکمل اجر ختم ہو گیا۔“