السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: قطع الشجر وحرق المنازل باب: درخت کاٹنے اور مکانات جلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18114
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُنْذِرِ رَجَاءُ بْنُ الْجَارُودِ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أنبأ جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ. قَالَ: وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ:.حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنو نضیر کے کھجور کے درخت جلا دیے، جس کے بارے میں حسان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: ”بنو لوی کے سرداروں پر بویرہ نامی جگہ پر پھیلی ہوئی کھجور کے درخت جلانے آسان ہو گئے۔“
اس کا جواب ابو سفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے دیا تھا: ”اللہ کرے یہ کام جاری رہے اور آگ اس کے اطراف میں بھڑکی رہے، عنقریب تم لوگ جان لو گے کہ ہم میں سے کون بچا ہے اور تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کس کی زمین کا نقصان ہوا ہے۔“