السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: قطع الشجر وحرق المنازل باب: درخت کاٹنے اور مکانات جلانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 18112
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَّقَ"، وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ:.حافظ ثناء اللہ
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے بنو نضیر کی کھجوریں کاٹ کر جلا دیں۔ اس کے لیے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ بنو لوی کے سرداروں پر بویرہ نامی جگہ پر پھیلی ہوئی کھجوروں کو جلانا آسان ہے۔ اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا﴾ [سورة الحشر: 5] ”جو تم نے کاٹ دیا یا تم نے ان کے تنوں پر کھڑا رہنے دیا۔“