السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
قتل أبي رافع عبد الله بن أبي الحقيق، ويقال: سلام بن أبي الحقيق باب: ابو رافع عبداللہ بن ابی حقیق (ایک قول کے مطابق سلام بن ابی حقیق) کے قتل کا بیان۔
وَأَمَّا تَارِيخُ قَتْلِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ، وَتَارِيخُ عُمْرَتِهِ، فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ هُوَ ابْنُ يَسَارٍ، قَالَ: فَلَمَّا انْقَضَى أَمْرُ الْخَنْدَقِ وَأَمْرُ بَنِي قُرَيْظَةَ، وَكَانَ أَبُو رَافِعٍ سَلَّامُ بْنُ أَبِي الْحُقَيْقِ مِمَّنْ كَانَ حَزَّبَ الْأَحْزَابَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اسْتَأْذَنَتِ الْخَزْرَجُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلِ سَلَّامِ بْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ، وَكَانَ بِخَيْبَرَ، فَأَذِنَ لَهُمْ فِيهِ. قَالَ: ثُمَّ غَزَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ فِي شَعْبَانَ سَنَةَ سِتٍّ، ثُمَّ خَرَجَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ مُعْتَمِرًا عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ ". قَالَ الشَّيْخُ: " ثُمَّ كَانَتْ عُمْرَتُهُ الَّتِي تُسَمَّى عُمْرَةَ الْقَضَاءِ، ثُمَّ عُمْرَةُ الْجِعْرَانَةِ، ثُمَّ عُمْرَتُهُ فِي سَنَةِ حَجَّتِهِ، كُلُّهُنَّ بَعْدَ ذَلِكَ، وَقَتْلُ ابْنُ أَبِي الْحُقَيْقِ كَانَ قَبْلَهُنَّ، فَكَيْفَ يَكُونُ نَهْيُهُ فِي قِصَّةِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ نَاسِخًا لِحَدِيثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ الَّذِي كَانَ بَعْدَهُ؟ وَزَعَمُوا أَنَّهُ هَاجَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَاتَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَإِنْ كَانَ سَمَاعُهُ الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا هَاجَرَ فَيَكُونُ ذَلِكَ أَيْضًا بَعْدَ قِصَّةِ ابْنِ أَبِي الْحُقَيْقِ، فَإِنَّ فِي حَدِيثِ الْهَدِيَّةِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهُ أَوَّلُ مَا الْتَقَى بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَكُونُ وَجْهُ الْحَدِيثَيْنِ مَا أَشَارَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ مِنَ اخْتِلَافِ الْحَالَيْنِ وَاللهُ أَعْلَمُ ".محمد بن اسحاق بن یسار فرماتے ہیں کہ جب خندق اور بنو قریظہ کا معاملہ ختم ہوا تو ابو رافع سلام بن ابی الحقیق، جس نے نبی ﷺ کے خلاف لشکر ترتیب دیے تھے، خزرج والوں نے سلام بن ابی الحقیق کے قتل کی اجازت مانگی، یہ اس وقت خیبر میں تھا تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔ پھر شعبان 6 ہجری میں بنو مصطلق ہوا۔ پھر حدیبیہ کے سال ذوالقعدہ میں آپ ﷺ عمرہ کے لیے نکلے۔
شیخ فرماتے ہیں: اس کے بعد آپ ﷺ کا عمرۃ القضاء تھا، پھر جعرانہ والا، پھر وہ عمرہ جو آپ ﷺ نے حج کے ساتھ کیا اور ابن ابی الحقیق اس سے پہلے قتل ہو چکا تھا۔
پھر کیسے ممکن ہے کہ آپ کا ابن ابی الحقیق کے قصہ میں عورتوں و بچوں کے قتل سے منع فرمانا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کو منسوخ کرنے والا ہو جو اس کے بعد کی ہے؟ اور ان کا گمان ہے کہ اس نے آپ ﷺ کی طرف ہجرت کی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفات پائی۔ اگر ہجرت کے بعد آپ ﷺ سے سنا ہے، تب بھی ابن ابی الحقیق کے قصہ کے بعد کی بات ہے، کیونکہ ہدیہ والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نبی ﷺ سے ان کی پہلی ملاقات تھی۔ لہٰذا دونوں حدیثوں کی توجیہ وہی ہے جس کی طرف امام شافعی رحمہ اللہ نے اشارہ کیا ہے کہ دونوں حالتیں مختلف ہیں۔ واللہ اعلم۔