السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: قتل النساء والصبيان في التبييت والغارة من غير قصد، وما ورد في إباحة التبييت باب: شب خون اور غارت گری میں غیر ارادی طور پر عورتوں اور بچوں کے قتل ہوجانے، اور شب خون کے جواز کے متعلق کیا وارد ہوا ہے۔
فَإِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ اسْتِدْلَالًا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ الْفَارَيَابِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ، فَأَهْدَيْتُ إِلَيْهِ لَحْمَ حِمَارِ وَحْشٍ، فَرَدَّهُ عَلَيَّ فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِي، قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ ".سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں ابواء یا ودان نامی جگہ پر تھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے قریب سے گزرے تو میں نے آپ ﷺ کو نیل گائے کا گوشت تحفے میں پیش کیا، آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا۔ جب آپ ﷺ نے میرے چہرے پر ناگواری کے آثار دیکھے تو فرمایا: ”ہم نے اسے کسی اور وجہ سے واپس نہیں کیا بجز اس کے کہ ہم حالتِ احرام میں ہیں۔“
وہ بیان فرماتے ہیں کہ مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا کہ جب شب خون کے وقت ان کی عورتیں اور بچے مارے جائیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بھی انہی میں سے ہیں۔“
وہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا: ”چراگاہ صرف اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔“ علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ نے مجلس کے دوران دو مرتبہ یہ بات کہی۔
سفیان رحمہ اللہ جب اس حدیث کو بیان فرماتے تو کہتے تھے کہ ابن کعب بن مالک اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ نے انہیں ابن ابی الحقیق کی طرف بھیجا تو عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا۔