السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المنع من صبر الكافر بعد الإسار بأن يتخذ غرضا باب: کافر کو قید کرنے کے بعد اسے باندھ کر نشانہ بنانے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18058
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو الْحِيرِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا ⦗١٢١⦘ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، أنبأ أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: مَرَّ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِفِتْيَانٍ مِنْ قُرَيْشٍ وَقَدْ نَصَبُوا طَيْرًا وَهُمْ يَرْمُونَهُ، وَقَدْ جَعَلُوا لِصَاحِبِ الطَّيْرِ كُلَّ خَاطِئَةٍ مِنْ نَبْلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَوَا ابْنَ عُمَرَ تَفَرَّقُوا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ لَعَنَ اللهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا، إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا گزر قریشی بچوں کے پاس سے ہوا، وہ ایک پرندے کو باندھ کر نشانہ بازی کر رہے تھے لیکن تمام کے نشانے خطا تھے۔ جب انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو وہ بکھر گئے، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: ”یہ کس نے کیا؟ اللہ اس پر لعنت فرمائے جس نے یہ کیا؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ذی روح چیز پر نشانے بازی کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔“