السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: المنع من صبر الكافر بعد الإسار بأن يتخذ غرضا باب: کافر کو قید کرنے کے بعد اسے باندھ کر نشانہ بنانے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 18057
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا خَرَجَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَرَأَى غِلْمَانًا قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَلَمَّا رَأَوْهُ فَرُّوا، فَغَضِبَ، وَقَالَ: مَنْ فَعَلَ هَذَا؟ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ " لَعَنَ مَنْ مَثَّلَ بِالْحَيَوَانِ ". ذَكَرَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الشَّوَاهِدِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مدینہ کے کسی راستے پر نکلے، انہوں نے دیکھا کہ بچے مرغی کو باندھ کر نشانہ بازی کر رہے ہیں، جب بچوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو وہ فرار ہو گئے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما غصے ہوئے اور پوچھا: یہ کس نے کیا؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ”حیوان کا مثلہ کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔“