حدیث نمبر: 18052
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، قَالَ: " لَا وَاللهِ مَا سَمَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَيْنًا، وَلَا زَادَ أَهْلَ اللِّقَاحِ عَلَى قَطْعِ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلِهِمْ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ ثَابِتٌ صَحِيحٌ، وَمَعَهُ رِوَايَةُ ابْنِ عُمَرَ، وَفِيهِمَا جَمِيعًا أَنَّهُ سَمَلَ أَعْيُنَهُمْ، فَلَا مَعْنَى لِإِنْكَارِ مَنْ أَنْكَرَ، وَالْأَحْسَنُ حَمْلُهُ عَلَى النَّسْخِ "..
حافظ ثناء اللہ

حضرت جعفر رحمہ اللہ اپنے والد علی بن حسین رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ نے آنکھوں میں سلائیاں نہیں پھیریں، صرف ہاتھ اور پاؤں کاٹے ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات صحیح ثابت ہیں، ان میں ہے کہ آپ ﷺ نے ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھیری ہیں تو کسی کے انکار کر دینے سے کیا حاصل۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 18052
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»