السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ فِي قِصَّةِ بَدْرٍ، قَالَ: " وَكَانَ فِي ⦗١١٧⦘ الْأُسَارَى أَبُو وَدَاعَةَ السَّهْمِيُّ، فَقَدِمَ ابْنُهُ الْمُطَّلِبُ الْمَدِينَةَ فَأَخَذَ أَبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ، فَانْطَلَقَ بِهِ، ثُمَّ بَعَثَ قُرَيْشٌ فِي فِدَاءِ الْأُسَارَى، فَقَدِمَ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصٍ فِي فِدَاءِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، فَقَالَ: اجْعَلُوا رِجْلِيَّ مَكَانَ رِجْلِهِ وَخَلُّوا سَبِيلَهُ حَتَّى يُبْعَثَ إِلَيْكَم بِفِدَائِهِ. فَخَلَّوْا سَبِيلَ سُهَيْلٍ وَحَبَسُوا مِكْرَزًا. قَالَ: فَفَدَى كُلُّ قَوْمٍ أَسِيرَهُمْ بِمَا رَضُوا. قَالَ: وَكَانَ أَكْثَرُ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ فِدَاءً الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَذَلِكَ لَأَنَّهُ كَانَ رَجُلًا مُوسِرًا، فَافْتَدَى نَفْسَهُ بِمِائَةِ أُوقِيَّةِ ذَهَبٍ ".ابن اسحاق بدر کے قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ابو وداعہ سہمی بدری قیدی تھا، اس کے بیٹے نے اپنے باپ کو چار ہزار درہموں میں حاصل کیا۔ قریشیوں نے اس کے اور اپنے قیدیوں کے فدیے روانہ کیے۔ مکرز بن حفص، سہیل بن عمرو کا فدیہ لے کر آیا، اس نے کہا: سہیل کی جگہ مجھے قید کر لو، جب اس کا فدیہ آئے گا مجھے چھوڑ دینا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے سہیل کو چھوڑ کر مکرز کو قید کر لیا۔ راوی کہتے ہیں: تمام قوم نے اپنے قیدیوں کا فدیہ دیا، جتنے پر وہ راضی ہوئے اور بدر کے قیدیوں میں سے سب سے زیادہ فدیہ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کا تھا، یہ مالدار آدمی تھے، انہوں نے ایک سو اوقیہ سونا ادا کیا تھا۔