حدیث نمبر: 1804
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ ثنا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ثنا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا أَنْ يُعِيدَ الْأَذَانَ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا "، قُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ الْأَذَانَ؟ قَالَ: لَا، لَمْ يَزَلِ الْأَذَانُ عِنْدَنَا بِلَيْلٍ ".
حافظ ثناء اللہ

شعیب بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا مالک بن انس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا نبی ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم نہیں دیا کہ اذان لوٹائیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے ہیں، پس تم کھاؤ اور پیو۔“ میں نے کہا: کیا آپ ﷺ نے انہیں حکم نہیں دیا کہ اذان لوٹائیں؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہمیشہ ہمارے نزدیک اذان رات کو ہی رہی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 1804
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»