السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
وَأَمَّا الْمُفَادَاةُ بِالْمَالِ فَفِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي زُمَيْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: وَكَانَ أَكْثَرُ حَدِيثِهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ: " مَا تَرَوْنَ فِي هَؤُلَاءِ الْأُسَارَى؟ ". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةُ ⦗١١٦⦘ وَالْإِخْوَانُ، غَيْرَ أَنَّا نَأْخُذُ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ؛ لِيَكُونَ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْمُشْرِكِينَ، وَعَسَى الله عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَهْدِيَهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَيَكُونُوا لَنَا عَضُدًا. قَالَ: " فَمَاذَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ ". قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا أَرَى الَّذِي رَأَى أَبُو بَكْرٍ وَلَكِنْ هَؤُلَاءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهُمْ فَقَرِّبْهُمْ وَاضْرِبْ أَعْنَاقَهُمْ. قَالَ: فَهَوِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ، وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ أَنَا، فَأَخَذَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا هُوَ وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَانِ يَبْكِيَانِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَخْبِرْنِي مِنْ أِيِّ شَيْءٍ تَبْكِي أَنْتَ وَصَاحِبُكَ؟ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ، وَإِلَّا تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا. قَالَ: الَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ، لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُكُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، وَشَجَرَةٌ قُرَيْبَةٌ حِينَئِذٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ} [الأنفال: ٦٧] الْآيَةَ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، زَادَ إِلَى قَوْلِهِ: {فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا} [الأنفال: ٦٩]، فَأَحَلَّ اللهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْقَسْمِ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں (ان کی اکثر احادیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہیں): جب بدر کا دن تھا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا ان قیدیوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے: اے اللہ کے نبی! یہ ہمارے چچا کے بیٹے، خاندان کے لوگ اور ہمارے بھائی ہیں، اگر ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیں تو ممکن ہے اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے دے اور ہمیں مشرکین کے خلاف مالی قوت بھی حاصل ہوجائے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے ابن خطاب! تیرا کیا خیال ہے؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میری رائے ابوبکر رضی اللہ عنہ والی نہیں ہے بلکہ یہ کفر کے سردار ہیں، ان کے سر تن سے جدا کر دیں، لیکن رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کو قبول فرمایا اور میری رائے قبول نہ فرمائی۔ آپ ﷺ نے ان سے فدیہ لے لیا۔ جب صبح ہوئی تو میں آپ ﷺ کے پاس گیا، دیکھتا ہوں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور آپ ﷺ بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے نبی! آپ مجھے بتائیں کہ آپ کو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کس چیز نے رونے پر مجبور کر دیا ہے؟ اگر رونے کی وجہ ہو تو میں بھی رو لوں یا پھر آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے (ہی) رو لوں۔۔۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! تمہارے ساتھیوں کو (فدیہ لینے کی پاداش میں) میرے سامنے پیش کیا گیا اور اس درخت سے زیادہ قریب اللہ کا عذاب پیش کیا گیا، پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن نازل فرمایا: ﴿مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللَّهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ﴾ [سورة الأنفال: 67] ”کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے پاس قیدی ہوں یہاں تک کہ وہ زمین میں (دشمن کا) خون بہا لے۔ تم دنیا کا مال و متاع چاہتے ہو اور اللہ آخرت کا ارادہ رکھتا ہے۔“ “ (ب) عکرمہ بن عمار رحمہ اللہ نے کچھ اضافہ کیا ہے: ﴿فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا﴾ [سورة الأنفال: 69] ”پس جو کچھ تم نے غنیمت پایا ہے اسے حلال اور طیب سمجھ کر کھاؤ۔“