السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما يفعله بالرجال البالغين منهم باب: ان میں سے بالغ مردوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَقْبَلَ بِالْأُسَارَى حَتَّى إِذَا كَانَ بِعِرْقِ الظُّبْيَةِ أَمَرَ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتِ بْنِ أَبِي الْأَقْلَحِ أَنْ يَضْرِبَ عُنُقَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ، فَجَعَلَ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ يَقُولُ: يَا وَيْلَاهُ، عَلَامَ أُقْتَلُ مِنْ بَيْنِ هَؤُلَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعَدَاوَتِكَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ". فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَنُّكَ أَفْضَلُ، فَاجْعَلْنِي كَرَجُلٍ مِنْ قَوْمِي إِنْ قَتَلْتَهُمْ قَتَلْتَنِي، وَإِنْ مَنَنْتَ عَلَيْهِمْ مَنَنْتَ عَلَيَّ، وَإِنْ أَخَذْتَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ كُنْتُ كَأَحَدِهِمْ، يَا مُحَمَّدُ مَنْ لِلصِّبْيَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " النَّارُ، يَا عَاصِمُ بْنَ ثَابِتٍ، قَدِّمْهُ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ ". فَقَدَّمَهُ فَضَرَبَ عُنُقَهُ ".محمد بن یحییٰ بن سہل بن ابی حثمہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عرقِ ظبیہ نامی جگہ پر جب رسول اللہ ﷺ کے پاس قیدی لائے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے عاصم بن ثابت بن ابی اقلح رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ عقبہ بن ابی معیط کی گردن جدا کر دیں۔ عقبہ بن ابی معیط نے کہا: ان کے درمیان سے مجھے کیوں قتل کیا جا رہا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اور رسول کی دشمنی کی وجہ سے۔“ تو عقبہ نے کہا: اے محمد! آپ مجھے میری قوم کے آدمیوں میں شمار کرتے ہوئے ان جیسا سلوک کریں، اگر آپ ان کو قتل کریں تو مجھے بھی قتل کر دیں، اگر ان پر احسان کریں تو مجھ پر بھی احسان کریں اور اگر ان سے فدیہ لیں تو میں بھی ان میں سے ایک کی طرح ہوں گا۔ اے محمد! بچوں کا کون ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے لیے آگ ہے۔“ ”اے عاصم بن ثابت! اس کی گردن تن سے جدا کر دو“، تو انہوں نے اس کا سر قلم کر دیا۔