السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما فضل في يده من الطعام والعلف في دار الحرب باب: دار الحرب میں مجاہد کے پاس جو کھانا اور چارہ بچ جائے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 18008
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَزَّارُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو حَمْزَةَ الْعَطَّارُ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنِّي امْرُؤٌ مَتْجَرِي بِالْأَيْلَةِ، وَإِنِّي أَمْلَأُ بَطْنِي مِنَ الطَّعَامِ، فَأَصْعَدُ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ فَآكُلُ مِنْ تَمْرِهِ وَبُسْرِهِ فَمَا تَرَى؟ قَالَ الْحَسَنُ: غَزَوْتُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا إِذَا صَعِدُوا إِلَى الثِّمَارِ أَكَلُوا مِنْ غَيْرِ أَنْ يُفْسِدُوا أَوْ يَحْمِلُوا ".حافظ ثناء اللہ
ابوحمزہ عطار رحمہ اللہ نے حسن رحمہ اللہ سے سوال کیا: اے ابوسعید! میں ایسا آدمی ہوں جس کی تجارت کا مقام (ابلہ) کی جگہ ہے، میں اپنا کھانے بھر لیتا ہوں، پھر دشمن کے علاقہ میں جاتا ہوں اور وہاں خشک اور تر کھجور کھاتا ہوں، اس کو آپ کیسا دیکھتے ہو؟ تو حسن رحمہ اللہ نے کہا: ہم عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ غزوہ میں شریک تھے، نبی ﷺ کے صحابی رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے، جب وہ پھلوں کی طرف چڑھتے تو اس سے کھا لیتے تھے مگر خراب نہیں کرتے تھے اور نہ ساتھ اٹھاتے تھے۔