السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: السرية تأخذ العلف والطعام باب: فوجی دستے کا چارہ اور کھانا حاصل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17997
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ الشَّيْبَانِيُّ، وَأَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، قَالَ: بَعَثَنِي أَهْلُ الْمَسْجِدِ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَسْأَلُهُ مَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَعَامِ خَيْبَرَ، فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: هَلْ خَمَسَهُ؟ قَالَ: لَا كَانَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ، وَكَانَ أَحَدُنَا إِذَا أَرَادَ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْهُ حَاجَتَهُ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابی مجالد کہتے ہیں کہ مجھے مسجد والوں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا کہ میں ان سے دریافت کروں کہ نبی ﷺ نے خیبر کے کھانوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا تھا؟ تو میں ان کے پاس آیا اور ان سے سوال کیا، تو میں نے کہا: کیا ان سے خمس نکالا گیا تھا؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، کیونکہ وہ اس سے کم تھا اور ہم ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لیتے تھے۔