حدیث نمبر: 17988
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: سُورَةُ الْأَنْفَالِ، قَالَ: " نَزَلَتْ فِي أَهْلِ بَدْرٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَأَمَّا مَا احْتُجَّ بِهِ مِنْ وَقْعَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ، وَابْنِ الْحَضْرَمِيِّ فَذَلِكَ قَبْلَ بَدْرٍ، وَقَبْلَ نُزُولِ الْآيَةِ، وَكَانَتْ وَقْعَتُهُمْ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنَ الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَتَوَقَّفُوا فِيمَا صَنَعُوا، حَتَّى نَزَلَتْ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ} [البقرة: ٢١٧]، وَلَيْسَ مِمَّا خَالَفَ فِيهِ الْأَوْزَاعِيُّ بِسَبِيلٍ ". قَالَ الشَّيْخُ: فذَكَرْنَا قِصَّةَ ابْنِ جَحْشٍ مِنْ رِوَايَةِ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سورہ انفال کے بارے میں بات کی تو انہوں نے فرمایا: یہ بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ اور ابن حضرمی کے واقعہ سے جو دلیل لی جاتی ہے، یہ واقعہ بدر سے پہلے کا ہے اور ان آیات کے نزول سے پہلے کا ہے، جبکہ ان کا واقعہ حرمت والے مہینوں کے آخر میں ہوا تو انہوں نے اس میں توقف کیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ﴾ [سورة البقرة: 217] ”یہ تجھ سے حرمت والے مہینے میں لڑنے کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے کہ اس میں لڑنا بہت بڑا ہے۔“ اور امام اوزاعی رحمہ اللہ کو اختلاف کرنے کے لیے کوئی راستہ نہیں۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ کا قصہ سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ذکر ہو گیا ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17988