السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: قسمة الغنيمة في دار الحرب باب: دار الحرب میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى الْأَشْدَقِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْأَنْفَالِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ فِي آخِرِهِ: فَلَمَّا اخْتَلَفْنَا وَسَاءَتْ أَخْلَاقُنَا انْتَزَعَهُ اللهُ مِنْ بَيْنِ أَيْدِينَا فَجَعَلَهُ إِلَى رَسُولِهِ، فَقَسَمَهُ عَلَى النَّاسِ عَنْ سَوَاءٍ، فَكَانَ فِي ذَلِكَ تَقْوَى اللهِ وَطَاعَتُهُ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ وَصَلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ} [الأنفال: ١]. وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ يَقُولُ: أُنْزِلَتْ سُورَةُ الْأَنْفَالِ بِأَسْرِهَا فِي أَهْلِ بَدْرٍ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: " فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهَا خَالِصًا، وَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ، وَأَدْخَلَ مَعَهُمْ ثَمَانِيَةَ نَفَرٍ لَمْ يَشْهَدُوا الْوَقْعَةَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ. وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: سَبْعَةً أَوْ ثَمَانِيَةً ".حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے انفال کے بارے میں سوال کیا، اس کے آخر میں ہے کہ جب ہم نے اختلاف کیا اور ہمارا رویہ برا ہو گیا تو اللہ نے اسے ہمارے ہاتھوں سے چھین لیا اور اس کو رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹا دیا۔ آپ ﷺ نے اس کو لوگوں میں برابر تقسیم کر دیا۔ یہ اللہ سے ڈرنے اور اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت میں لوگوں کے درمیان صلح کا طریقہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 1] ”وہ تجھ سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دے کہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں، سو اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔“
ابن اسحاق کہتے ہیں: میں نے زہری رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، سورہ انفال مکمل بدر والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: غنیمت کا سارا مال رسول اللہ ﷺ کے لیے تھا، آپ ﷺ نے اس کو لوگوں میں تقسیم کیا اور اس میں آٹھ ایسے گروہ شامل کیے جو غزوہ میں موجود نہ تھے، جن کا تعلق مہاجرین و انصار سے تھا؛ ایک مقام پر سات یا آٹھ کا ذکر ہے۔