السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: قسمة الغنيمة في دار الحرب باب: دار الحرب میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، وَالْحَسَنُ النَّسَوِيُّ، قَالُوا: ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، ⦗٩٧⦘ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي فِي حَجَّتِهِ، عُمْرَةً فِي الْحُدَيْبِيَةِ، أَوْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ ". هَذَا حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ. وَقَالَ الْحَسَنُ: عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ. وَقَالَ أَبُو يَعْلَى عُمْرَتَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هُدْبَةَ، وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَأَمَّا مَا احْتَجَّ بِهِ أَبُو يُوسُفَ مِنْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْسِمْ غَنَائِمَ بَدْرٍ حَتَّى وَرَدَ الْمَدِينَةَ، وَمَا ثَبَتَ مِنَ الْحَدِيثِ بِأَنْ قَالَ: وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْهَمَ لِعُثْمَانَ وَطَلْحَةَ وَلَمْ يَشْهَدَا بَدْرًا، فَإِنْ كَانَ كَمَا قَالَ فَهُوَ يُخَالِفُ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؛ لِأَنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ لِلْإِمَامِ أَنْ يُعْطِيَ أَحَدًا لَمْ يَشْهَدِ الْوَقْعَةَ وَلَمْ يَكُنْ مَدَدًا، وَلَيْسَ كَمَا قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ بَدْرٍ بِسَيْرِ شِعْبٍ مِنْ شِعَابِ الصَّفْرَاءِ، قَرِيبٍ مِنْ بَدْرٍ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے عمرہ کے علاوہ چار عمرے کیے، باقی سب ذی القعدہ میں تھے؛ ایک عمرہ حدیبیہ میں یا حدیبیہ کی صلح کے موقع پر ذی القعدہ میں ہوا، اور ایک عمرہ آئندہ سال، اور ایک جعرانہ سے لوٹنے پر جب آپ حنین کی غنیمتیں تقسیم کرنے آئے تھے اور ایک عمرہ آپ نے اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔ یہ ابراہیم کی حدیث ہے جبکہ حسن نے بالکل «عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ» ”حدیبیہ سے ایک عمرہ“ کہا ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ آپ ﷺ نے حنین کے مقام پر ہی غنیمت کا مال بھی تقسیم کیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو یوسف نے جو دلیل لی ہے کہ نبی ﷺ نے بدر کا مالِ غنیمت مدینہ میں پہنچ کر تقسیم کیا اور جو حدیث میں ثابت ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ نبی ﷺ نے سیدنا عثمان اور سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہما کے لیے بدر کا حصہ رکھا جبکہ وہ بدر میں نہیں آئے۔ اگر اسی طرح ہے تو یہ سنت کے مخالف ہے کیونکہ امام یا امیر کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کو غنیمت سے کچھ دے جبکہ وہ اس میں شامل نہ رہا ہو اور وہ مددگار نہ رہا ہو، جبکہ یہ اس طرح نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کی غنیمتیں ”سبر“ نامی جگہ پر تقسیم کیں جو صفراء کی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی ہے اور بدر کے قریب ہے۔