حدیث نمبر: 17979
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسَدَّدٌ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، ثُمَّ رَكِبَ، فَقَالَ: " اللهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ". فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي السِّكَكِ وَهُمْ يَقُولُونَ: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ. قَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ حَمَّادٌ: وَالْخَمِيسُ الْجَيْشُ، فَظَهَرَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَتَلَ الْمُقَاتِلَةَ وَسَبَى الذَّرَارِيَّ، فَصَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ، ثُمَّ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ صَدَاقَهَا عِتْقَهَا. قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ لِثَابِتٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَنْتَ سَأَلْتَ أَنَسًا مَا أَمْهَرَهَا؟ فَقَالَ أَمْهَرَهَا نَفْسَهَا. فَتَبَسَّمَ. ⦗٩٦⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھی، پھر آپ ﷺ سوار ہوئے اور فرمایا: «اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ» ”اللہ اکبر، خیبر برباد ہو گیا، جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے گئے لوگوں کی یہ صبح بہت بری ہوتی ہے۔“ وہ لوگ نکلے، گلیوں میں چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے: ”محمد اور ان کا لشکر۔“ حماد کہتے ہیں: خمیس لشکر کو کہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے ان پر غلبہ حاصل کیا اور جوانوں کو قتل کیا اور بچوں کو قیدی بنایا۔ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں، پھر ان کو رسول اللہ ﷺ کے حصے میں دے دیا گیا۔ آپ ﷺ نے ان سے نکاح کیا اور آزادی کو حق مہر قرار دیا۔ عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ثابت رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا تو نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا کہ آپ ﷺ نے مہر کیا رکھا؟ تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے ان کا مہر ان کے نفس کی آزادی رکھا تھا، تو وہ مسکرا دیے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17979
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»