حدیث نمبر: 17977
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةِ، قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بِصِبْيَانِهِمْ فَيَمْسَحُ رُءُوسَهُمْ وَيَدْعُو لَهُمْ، فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَقَدْ خُلِّقْتُ بِالْخَلُوقِ، فَلَمَّا رَآنِي لَمْ يَمْسَسْنِي وَلَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ ذَلِكَ إِلَّا الْخَلُوقُ الَّذِي خَلَّقَتْنِي أُمِّي ". ⦗٩٥⦘.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کیا تو مکہ والے اپنے بچوں کو آپ ﷺ کے پاس لاتے، آپ ﷺ ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور ان کے لیے دعا کرتے۔ مجھے بھی لایا گیا، میرے سر پر زعفران کی خوشبو لگائی گئی تھی۔ جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو مجھے نہ چھوا۔ آپ ﷺ نے زعفرانی خوشبو کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہ لگایا جو میری ماں نے لگائی تھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17977
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»