السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرضخ لمن يستعان به من أهل الذمة على قتال المشركين باب: ذمیوں میں سے جن لوگوں سے مشرکین کے خلاف جنگ میں مدد لی جائے انہیں مالِ غنیمت میں سے کچھ حصہ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 17970
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ: " اسْتَعَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَهُودِ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَرَضَخَ لَهُمْ، وَلَمْ يُسْهِمْ لَهُمْ ". " تَفَرَّدَ بِهَذَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَلَمْ يَبْلُغْنَا فِي هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَينَا قَبْلُ هَذَا فِي كَرَاهِيَةِ الِاسْتِعَانَةِ بِالْمُشْرِكِينَ، وَاللهُ أَعْلَمُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو قینقاع کے یہود سے مدد لی اور ان کو اس کا بدلہ کچھ مال عطیۃً دیا، لیکن ان کو حصہ مقرر کر کے نہیں دیا۔
اس روایت کو بیان کرنے میں حسن بن عمارہ منفرد ہے اور وہ متروک ہے، اور اس بارے میں ہمیں کوئی صحیح حدیث نہیں پہنچی، اور ہم اس سے پہلے مشرکین سے مدد لینے کی کراہت کے بارے میں روایات بیان کر چکے ہیں۔