السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الجيش في دار الحرب يخرج منهم السرية إلى بعض النواحي فتغنم ويغنم الجيش باب: دار الحرب میں موجود لشکر جس میں سے کوئی دستہ کسی علاقے کی طرف نکل کر غنیمت حاصل کرے اور لشکر بھی مالِ غنیمت پائے، کے متعلق بیان۔
حدیث نمبر: 17958
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَقَالَ فِيهِ: " وَالْمُسْلِمُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ يَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، يَرُدُّ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ، تَرُدُّ سَرَايَاهُمْ عَلَى قَعَدَتِهِمْ ". وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرٍو، فَقَالَ: " يَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ، وَمُتَسَرِّعُهُمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح کے موقع پر خطبہ میں فرمایا تھا: ”مسلمانوں کو دوسروں پر فوقیت ہے اور مسلمانوں میں سے کمزور ترین آدمی کی ضمان کا بھی خیال رکھا جائے گا، دور والوں کو ان پر لوٹایا جائے گا اور فوجی دفاعی دستوں کو ان کے بیٹھنے کی جگہ پر لوٹایا جائے گا۔“ عمرو کی روایت میں ہے کہ ”عقل مندوں کو کمزوروں پر لوٹایا جائے گا اور سبقت لے جانے والوں کو بیٹھنے والوں پر لوٹایا جائے گا۔“