❮
❯
حدیث نمبر: 17953
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ، يَقُولُ: إِنَّ أَهْلَ الْبَصْرَةِ غَزَوْا أَهْلَ نَهَاوَنْدَ، فَأَمَدُّوهُمْ بِأَهْلِ الْكُوفَةِ وَعَلَيْهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَقَدِمُوا عَلَيْهِمْ بَعْدَ مَا ظَهَرُوا عَلَى الْعَدُوِّ، فَطَلَبَ أَهْلُ الْكُوفَةِ الْغَنِيمَةَ وَأَرَادَ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَنْ لَا يَقْسِمُوا لِأَهْلِ الْكُوفَةِ مِنَ الْغَنِيمَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: أَيُّهَا الْأَجْدَعُ، تُرِيدُ أَنْ تُشَارِكَنَا فِي غَنَائِمِنَا؟ قَالَ: وَكَانَتْ أُذُنُ عَمَّارٍ جُدِعَتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ: " إِنَّ الْغَنِيمَةَ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ ".
حافظ ثناء اللہ

طارق بن شہاب کہتے ہیں: اہل بصرہ نے اہل نہاوند سے جنگ لڑی، ان کو اہل کوفہ کے ذریعے مدد ملی اور ان پر امیر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما تھے۔ وہ (اہل کوفہ) اہل بصرہ کے دشمن پر غلبہ پا لینے کے بعد ان کے پاس پہنچے اور اہل کوفہ نے غنیمت کا مال طلب کیا، جبکہ بصرہ والے اہل کوفہ کو مالِ غنیمت سے حصہ نہیں دینا چاہتے تھے۔ بنو تمیم کے ایک آدمی نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے کن کٹے! کیا تم ہمارے غنیمت کے مال میں ہمارے ساتھ شریک ہونا چاہتے ہو؟ عمار رضی اللہ عنہما کے کان رسول اللہ ﷺ کی معیت میں کاٹ دیے گئے تھے، تو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ غنیمت اس کی ہے جو واقعہ میں موجود ہو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17953
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»