السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الغنيمة لمن شهد الوقعة باب: مالِ غنیمت اس شخص کے لیے ہے جو جنگ میں حاضر ہو۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً عَنْ أَبِي يُوسُفَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَ عِكْرِمَةَ بْنَ أَبِي جَهْلٍ فِي خَمْسِمِائَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَدَدًا لِزِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ وَلِلْمُهَاجِرِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، فَوَافَقَهُمُ الْجُنْدُ قَدِ افْتَتَحُوا النَّجِيرَ بِالْيَمِينِ، فَأَشْرَكَهُمْ زِيَادُ بْنُ لَبِيدٍ وَهُوَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فِي الْغَنِيمَةِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَإِنَّ زِيَادًا كَتَبَ فِيهِ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَتَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّمَا الْغَنِيمَةُ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ ". وَلَمْ يَرَ لِعِكْرِمَةَ شَيْئًا؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَشْهَدِ الْوَقْعَةَ، فَكَلَّمَ زِيَادٌ أَصْحَابَهُ فَطَابُوا أَنْفُسًا بِأَنْ أَشْرَكُوا عِكْرِمَةَ وَأَصْحَابَهُ مُتَطَوِّعِينَ عَلَيْهِمْ، وَهَذَا قَوْلُنَا ".حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت عکرمہ بن ابی جہل رضی اللہ عنہ کو زیاد بن لبید اور مہاجر بن ابی امیہ رضی اللہ عنہما کی مدد کے لیے پانچ سو مسلمانوں کے ساتھ روانہ کیا۔ ان کو لشکر ملا، وہ یمن میں نجیر کے علاقہ کو فتح کر چکے تھے، تو زیاد بن لبید رضی اللہ عنہ نے ان کو مالِ غنیمت میں شامل کیا، وہ بدر کی غنیمت میں شامل ہونے والوں میں سے تھے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زیاد نے یہ معاملہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لکھا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ غنیمت اس کے لیے ہے جو واقعہ میں موجود تھا۔ وہ عکرمہ رضی اللہ عنہ کے لیے غنیمت سے کچھ حصہ خیال نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ واقعہ میں موجود نہیں تھے، تو زیاد نے اپنے ساتھیوں سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے دل کی خوشی سے ان کو شریک کرنے کا کہا رضاکارانہ طور پر۔