السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
جماع أبواب السير -- باب: السيرة في المشركين عبدة الأوثان باب: 0سیر (مہمات اور جنگی احکام) کے ابواب کا مجموعہ۔ -- باب: بت پرست مشرکین کے ساتھ برتاؤ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَرَّرِ بنِ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيْثُ بَعَثَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَرَاءَةٍ إِلَى الْمُشْرِكِينَ، وَكُنْتُ أُنَادِي حَتَّى صَحِلَ صَوْتِي، قُلْتُ: يَا أَبِي، بِأِيِّ شَيْءٍ كُنْتَ تُنَادِي؟ قَالَ: " أَمَرَنَا أَنْ نُنَادِي أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَأَجَلُهُ إِلَى أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ، فَإِذَا مَضَتِ الْأَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ فَإِنَّ اللهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْكِرِينَ وَرَسُولُهُ، وَلَا يَطُوفَنَّ بِالْكَعْبَةِ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ أَوْ بَعْدَ الْيَوْمِ مُشْرِكٌ ".محرز بن ابی ہریرہ رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو مشرکین سے براءت کے اعلان کے لیے بھیجا تو میں بھی ان کے ساتھ تھا اور میں اعلان کرتا رہا حتی کہ میری آواز بیٹھ گئی۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا: ابا جان! آپ کس چیز کا اعلان کر رہے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم یہ اعلان کریں کہ ”جنت میں صرف مومن ہی داخل ہوں گے، اور جس کا رسول اللہ ﷺ سے کوئی معاہدہ ہے اس کی مدت چار ماہ ہے، پس جب چار ماہ گزر جائیں گے تو اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری ہیں ﴿أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُ﴾ [سورة التوبة: 3]، اور اب کوئی بیت اللہ کا طواف ننگی حالت میں نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی مشرک اس سال کے بعد طواف کرے گا“ یا کہا: ”آج کے دن کے بعد کوئی مشرک طواف نہیں کرے گا۔“