السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق کیا وارد ہوا ہے کہ ”اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو“۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: لَمَّا أُخْبِرَ عُمَرُ بِقَتْلِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ وَقِيلَ أُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَآخَرُونَ لَا نَعْرِفُهُمْ، قَالَ: " وَلَكِنَّ اللهَ يَعْرِفُهُمْ ". قَالَ: وَرَجُلٌ شَرَى نَفْسَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَحْمَسَ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ عَوْفٍ: ذَاكَ خَالِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، زَعَمَ نَاسٌ أَنَّهُ أَلْقَى بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ. فَقَالُ عُمَرُ: " كَذَبَ أُولَئِكَ، بَلْ هُوَ مِنَ الَّذِينَ اشْتَرُوا الْآخِرَةَ بِالدُّنْيَا ". قَالَ قَيْسٌ: وَالْمَقْتُولُ عَوْفُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ أَبُو شِبْلٍ. قَالَ يَعْقُوبُ: مَالِكٌ أَشْبَهُ.سیدنا حصین بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے قتل کی خبر دی گئی اور کہا گیا کہ کچھ دوسرے لوگوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جن کو ہم نہیں جانتے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ان کو جانتا ہے، تو حصین بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک آدمی نے اپنے نفس کا سودا کیا ہے۔ احمس کے ایک آدمی نے، جس کو مالک بن عوف رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے، کہا: یہ میرا ماموں ہے، اے امیر المومنین! لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے خود کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ غلط کہتے ہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کے بدلے آخرت کا سودا کیا ہے۔ قیس کہتے ہیں: مقتول عوف بن ابی حیضہ رضی اللہ عنہ تھا جبکہ یعقوب کہتے ہیں: مالک زیادہ انسب ہے۔