حدیث نمبر: 17929
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا ابْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: لَمَّا أُخْبِرَ عُمَرُ بِقَتْلِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ وَقِيلَ أُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَآخَرُونَ لَا نَعْرِفُهُمْ، قَالَ: " وَلَكِنَّ اللهَ يَعْرِفُهُمْ ". قَالَ: وَرَجُلٌ شَرَى نَفْسَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَحْمَسَ يُقَالُ لَهُ مَالِكُ بْنُ عَوْفٍ: ذَاكَ خَالِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، زَعَمَ نَاسٌ أَنَّهُ أَلْقَى بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ. فَقَالُ عُمَرُ: " كَذَبَ أُولَئِكَ، بَلْ هُوَ مِنَ الَّذِينَ اشْتَرُوا الْآخِرَةَ بِالدُّنْيَا ". قَالَ قَيْسٌ: وَالْمَقْتُولُ عَوْفُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ أَبُو شِبْلٍ. قَالَ يَعْقُوبُ: مَالِكٌ أَشْبَهُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا حصین بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدنا نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کے قتل کی خبر دی گئی اور کہا گیا کہ کچھ دوسرے لوگوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جن کو ہم نہیں جانتے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ ان کو جانتا ہے، تو حصین بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ایک آدمی نے اپنے نفس کا سودا کیا ہے۔ احمس کے ایک آدمی نے، جس کو مالک بن عوف رضی اللہ عنہ کہا جاتا ہے، کہا: یہ میرا ماموں ہے، اے امیر المومنین! لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے خود کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ غلط کہتے ہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کے بدلے آخرت کا سودا کیا ہے۔ قیس کہتے ہیں: مقتول عوف بن ابی حیضہ رضی اللہ عنہ تھا جبکہ یعقوب کہتے ہیں: مالک زیادہ انسب ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17929
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»