السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق کیا وارد ہوا ہے کہ ”اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو“۔
حدیث نمبر: 17928
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ هُوَ ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مُدْرِكِ بْنِ عَوْفٍ الْأَحْمَسِيِّ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرُوا ⦗٧٩⦘ رَجُلًا شَرَى نَفْسَهُ يَوْمَ نَهَاوَنْدَ، فَقَالَ: ذَاكَ وَاللهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ خَالِي، زَعَمَ النَّاسُ أَنَّهُ أَلْقَى بِيَدَيْهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " كَذَبَ أُولَئِكَ، بَلْ هُوَ مِنَ الَّذِينَ اشْتَرَوَا الْآخِرَةَ بِالدُّنْيَا ". كَذَا فِي رِوَايَةِ يَعْلَى.حافظ ثناء اللہ
حضرت مدرک بن عوف احمسی رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے۔ لوگوں نے ایک آدمی کا ذکر کیا جس نے نہاوند کی لڑائی کے دن اپنی جان کا سودا کیا تو مدرک رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! یہ میرے ماموں تھے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے خود کو ہلاکت میں ڈالا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگ غلط کہتے ہیں بلکہ اس نے اپنے نفس کے بدلے میں آخرت کا سودا کیا ہے۔