السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق کیا وارد ہوا ہے کہ ”اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو“۔
حدیث نمبر: 17926
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَحْمِلُ عَلَى الْكَتِيبَةِ بِالسَّيْفِ فِي أَلْفٍ، مِنَ التَّهْلُكَةِ ذَاكَ؟ قَالَ: " لَا، إِنَّمَا التَّهْلُكَةُ أَنْ يُذْنِبَ الرَّجُلُ الذَّنْبَ ثُمَّ يُلْقِيَ بِيَدَيْهِ، ثُمَّ يَقُولَ: لَا يُغْفَرُ لِي ".حافظ ثناء اللہ
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے کہا: میں نے ایک ہزار کے لشکر پر حملہ کیا، کیا یہ ہلاکت سے ہے؟ براء رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں، ہلاکت یہ ہے کہ بندہ گناہ کرے پھر اس میں ڈوب جائے اور کہے: مجھے معاف نہیں کیا جائے گا۔