السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: ما جاء في قول الله عز وجل: وأنفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق کیا وارد ہوا ہے کہ ”اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِي، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، حَدَّثَنِي أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ، قَالَ: كُنَّا بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ وَعَلَى أَهْلِ مِصْرَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، وَعَلَى أَهْلِ الشَّامِ رَجُلٌ يُرِيدُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، فَخَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ صَفٌّ عَظِيمٌ مِنَ الرُّومِ فَصَفَفْنَا لَهُمْ، فَحَمَلَ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى الرُّومِ حَتَّى دَخَلَ فِيهِمْ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَصَاحَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَقَالُوا: سُبْحَانَ اللهِ أَلْقَى بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ، فَقَامَ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَتُؤَوِّلُونَ هَذِهِ الْآيَةَ عَلَى هَذَا التَّأْوِيلِ، إِنَّمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِينَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، إِنَّا لَمَّا أَعَزَّ اللهُ دِينَهُ وَكَثُرَ نَاصِرُوهُ، فَقُلْنَا فِيمَا بَيْنَنَا بَعْضُنَا لِبَعْضٍ سِرًّا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَمْوَالَنَا قَدْ ضَاعَتْ فَلَوْ أَقَمْنَا فِيهَا قَدْ أَصْلَحْنَا مَا ضَاعَ مِنْهَا، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَرُدُّ عَلَيْنَا مَا هَمَمْنَا بِهِ، فَقَالَ: {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: ١٩٥]، فَكَانَتِ التَّهْلُكَةُ فِي الْإِقَامَةِ الَّتِي أَرَدْنَا أَنْ نُقِيمَ فِي أَمْوَالِنَا نُصْلِحُهَا، فَأَمَرَنَا بِالْغَزْوِ. فَمَا زَالَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.حضرت اسلم ابو عمران رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم قسطنطنیہ میں تھے، اس وقت امیر عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ تھے اور شام میں ایک اور آدمی امیر تھا جس کا نام فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ تھا، روم سے ایک بڑا لشکر نکلا، ہم نے ان کے لیے صف بندی کی، ایک مسلمان نے رومیوں پر حملہ کیا، وہ ان کے پاس داخل ہوا پھر باہر آیا تو لوگ اس کو چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے: ”اس نے خود کو ہلاکت میں ڈال دیا ہے۔“ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ یہ ہم انصاریوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے؛ جب دین کی عزت اور مددگار زیادہ ہو گئے تو ہم بعض ساتھیوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوشیدہ رکھ کر بات کی کہ ہمارے مال ضائع ہو گئے ہیں، اگر ہم وہاں ہوں تاکہ ان کی اصلاح ہو سکے، تو اللہ تعالیٰ نے ہماری سوچ کی تردید اس قول سے کی ہے: ﴿وَأَنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ﴾ [سورة البقرة: 195] ”اور اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں مت ڈالو!“ ہلاکت اس میں تھی جس کا ہم نے ارادہ کیا کہ اپنے اموال کی اصلاح کے لیے وہیں رہیں، ہمیں جہاد کا حکم دیا گیا۔ پھر سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ وفات تک جہاد میں مشغول رہے۔