حدیث نمبر: 17890
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي أَبُو يَعْلَى، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مِهْرَانَ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ حَوْلَ الْمَدِينَةِ وَيَنْقُلُونَ التُّرَابَ عَلَى مُتُونِهِمْ، وَيَقُولُونَ:.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مہاجرین و انصار مدینہ کے ارد گرد خندق کھود رہے تھے اور اپنی کمر پر مٹی اٹھا کر نکال رہے تھے اور وہ کہتے تھے: ہم نے محمد ﷺ سے اسلام پر بیعت کی جب تک ہم زندہ رہیں گے، اور رسول اللہ ﷺ جواب دیتے تھے: «اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَةِ، فَبَارِكْ فِي الْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَةِ» ”اے اللہ! کوئی بھلائی نہیں ہے مگر آخرت کی بھلائی، اے اللہ! انصار و مہاجرین میں برکت ڈال۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انہیں دو مٹھی بھر جو دیے جاتے اور ان کا سالن بنایا جاتا تھا جو بدبودار ہوتا تھا اور وہ حلق میں اٹک جاتا تھا اور اس کی بو اچھی نہ تھی، وہی لوگوں کے سامنے رکھ دیا جاتا تھا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب السير / حدیث: 17890
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»