السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من يبدأ بجهاده من المشركين باب: مشرکین میں سے کس کے خلاف جہاد کی ابتدا کی جائے گی۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُمْ مِنَ الْكُفَّارِ} [التوبة: 123]..امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُمْ مِنَ الْكُفَّارِ﴾ ’ان کافروں سے لڑو جو تمہارے قریب ہیں۔‘ [سورة التوبة: 123]...“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَهَيَّأَ لِلْحَرْبِ، فَقَامَ فِيمَا أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ جِهَادِ عَدُوِّهِ وَقِتَالِ مَنْ أَمَرَهُ بِهِ مِمَّنْ يَلِيهِ مِنْ مُشْرِكِي الْعَرَبِ ". ⦗٦٥⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: " فَإِنِ اخْتَلَفَ حَالُ الْعَدُوِّ فَكَانَ بَعْضُهُمْ أَنْكَى مِنْ بَعْضٍ، أَوْ أَخْوَفَ مِنْ بَعْضٍ، فَلْيَبْدَأ الْإِمَامُ بِالْعَدُوِّ الْأَخْوَفِ أَوِ الْأَنْكَى، وَإِنْ كَانَتْ دَارُهُ أَبْعَدَ إِنْ شَاءَ اللهُ، وَتَكُونُ هَذِهِ بِمَنْزِلَةِ ضَرُورَةٍ ". قَالَ: " وَقَدْ بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ أَنَّهُ يَجْمَعُ لَهُ، فَأَغَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ وَقُرْبَهُ عَدُوٌّ أَقْرَبُ مِنْهُ.ابن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لڑائی کا ارادہ کیا۔ آپ ﷺ نے جہاد ان دشمنوں سے شروع کیا جن سے آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے پہلے قریبی مشرکین سے لڑنے کا حکم دیا تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر دشمن کی حالت مختلف ہو یعنی بعض بعض سے زیادہ ضرر کا باعث ہوں اور زیادہ خوف کا باعث ہوں تو سپہ سالار لڑائی اس دشمن سے پہلے کرے گا جس سے خدشہ زیادہ ہو، اگرچہ وہ گھر کے لحاظ سے دور ہو اور یہ ضرورت کے وقت ہوگا۔
فرمایا: جب نبی ﷺ کو خبر ملی کہ حارث بن ابی ضرار لشکر جمع کر رہا ہے تو آپ ﷺ نے اس پر رات کو حملہ کر دیا تھا اور آپ ﷺ کے ارد گرد دشمن تھے جو حارث بن ابی ضرار سے قریب تھے۔