السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من ليس للإمام أن يغزو به بحال باب: اس شخص کا بیان جسے امام کے لیے کسی صورت اپنے ساتھ جہاد پر لے جانا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 17875
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حَبَّةَ بْنِ جُوَيْنٍ، ⦗٦٣⦘ قَالَ: كُنَّا مَعَ سَلْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي غَزَاةٍ وَنَحْنُ مُصَافُّو الْعَدُوِّ، فَقَالَ: " مَنْ هَؤُلَاءِ؟ ". قَالُوا: الْمُشْرِكُونَ. قَالَ: " مَنْ هَؤُلَاءِ؟ ". قَالُوا: الْمُؤْمِنُونَ. قَالَ: فَقَالَ: " هَؤُلَاءِ الْمُشْرِكُونَ، وَهَؤُلَاءِ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُنَافِقُونَ، فَيُؤَيِّدُ اللهُ الْمُؤْمِنِينَ بِقُوَّةِ الْمُنَافِقِينَ، وَيَنْصُرُ اللهُ الْمُنَافِقِينَ بِدَعْوَةِ الْمُؤْمِنِينَ ".حافظ ثناء اللہ
حبہ بن جوین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھے اور ہم دشمن کے سامنے تھے تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ مشرکین ہیں۔ پھر انہوں نے کہا: یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا: مومنین ہیں، تو حبہ بن جوین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ مشرکین ہیں اور یہ مومنین ہیں اور منافقین، اللہ مومنوں کو مضبوط کرے گا منافقین کی قوت سے اور منافقوں کو کامیاب کرے گا مومنوں کی دعوت کی وجہ سے۔