السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: من ليس للإمام أن يغزو به بحال باب: اس شخص کا بیان جسے امام کے لیے کسی صورت اپنے ساتھ جہاد پر لے جانا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 17874
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " نَسْتَعِينُ بِقُوَّةِ الْمُنَافِقِينَ، وَإِثْمُهُ عَلَيْهِمْ ". وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، فَإِنْ صَحَّ فَإِنَّمَا وَرَدَ فِي مُنَافِقِينَ لَمْ يُعْرَفُوا بِالتَّخْذِيلِ وَالْإِرْجَافِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم منافقین سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور ان کا گناہ ان پر ہے۔ یہ منقطع ہے اور اگر یہ صحیح ہو تو یہ ان منافقین کے بارے میں ہے جن کے بارے میں علم نہیں کہ یہ مدد سے ہاتھ کھینچنے پر اکساتے ہیں یا یہ بری باتیں پھیلاتے ہیں۔ «وَاللّٰہُ اَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتا ہے“۔