السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرجل يكون عليه دين فلا يغزو إلا بإذن أهل الدين باب: اس شخص کے بیان میں جس پر قرض ہو تو وہ قرض خواہوں کی اجازت کے بغیر جہاد پر نہ جائے۔
حدیث نمبر: 17826
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللهِ يُكَفِّرُ كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا الدَّيْنَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ الْمُقْرِئِ، وَقَدْ مَضَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ ".حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں شہید ہونا تمام خطاؤں کو مٹا دیتا ہے مگر قرض باقی رہتا ہے۔“ (ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”مومن کی جان قرض کی وجہ سے لٹکی رہتی ہے حتیٰ کہ وہ اس کی طرف سے ادا کر دیا جائے۔“