السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: أصل فرض الجهاد باب: جہاد کی فرضیت کی بنیاد اور اصل کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ، حَدَّثَنِي حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} [التوبة: ٤١]، قَالَ: أَرَى رَبَّنَا يَسْتَنْفِرُنَا شُيُوخًا وَشَبَابًا جَهِّزُونِي، أَيْ بَنِيَّ جَهِّزُونِي. فَقَالَ بَنُوهُ: قَدْ شَهِدْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَنَحْنُ نَغْزُو. فَقَالَ: جَهِّزُونِي. فَرَكِبَ الْبَحْرَ، فَمَاتَ فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ جَزِيرَةً إِلَّا بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ فَقُبِرَ بِهَا وَلَمْ يَتَغَيَّرْ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [سورة التوبة: 41] تو انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے رب نے اس میں بوڑھوں اور جوانوں کو نکلنے کا کہا ہے، تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: اے بیٹو! میرے لیے تیاری کرو، میرے لیے تیاری کرو، تو بیٹوں نے کہا کہ یقیناً آپ رسول اللہ ﷺ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مل کر غزوے کرتے رہے ہیں، (اب آپ بیٹھیں) اور ہم لڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا: میری تیاری کرو، حتیٰ کہ سمندر کا سفر کیا اور فوت ہو گئے۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) کہ انہیں سات دنوں کے بعد ایک جزیرہ ملا تو اس میں انہیں دفن کیا اور ان کی نعش بالکل صحیح رہی۔