السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: أصل فرض الجهاد باب: جہاد کی فرضیت کی بنیاد اور اصل کا بیان۔
حدیث نمبر: 17800
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَلَسْنَا إِلَى الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِدِمَشْقَ وَهُوَ عَلَى تَابُوتٍ مَا بِهِ عَنْهُ فَضْلٌ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: لَوْ قَعَدْتَ الْعَامَ عَنِ الْغَزْوِ. قَالَ: أَتَتْ عَلَيْنَا الْبَحُوثُ، يَعْنِي سُورَةَ التَّوْبَةِ، قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا} [التوبة: ٤١]، فَلَا أَجِدُنِي إِلَّا خَفِيفًا.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم دمشق میں حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے، میں اور وہ ایک صندوق پر تھے اور ان کے پاس اس سے زائد چیز یا فضل نہ تھا، تو ان سے ایک آدمی نے کہا: اگر آپ اس سال غزوے پر نہ جاتے تو یہ بہتر ہوتا، تو انہوں نے کہا کہ ہمیں اس ((بحوث)) یعنی سورۃ التوبہ نے روک لیا ہے، یعنی سورۃ التوبہ ہمیں نہیں بیٹھنے دیتی؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [سورة التوبة: 41] ”اللہ کے راستے میں ہلکے اور بوجھل جس حال میں بھی ہو نکلو۔“ تو میں اپنے آپ کو ہلکا پاتا ہوں۔