السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
حدیث نمبر: 17773
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا فُدَيْكُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ فُدَيْكٍ، قَالَ: جَاءَ فُدَيْكٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَنْ لَمْ يُهَاجِرْ هَلَكَ. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا فُدَيْكُ أَقِمِ الصَّلَاةَ، وَآتِ الزَّكَاةَ، وَاهْجُرِ السُّوءَ، وَاسْكُنْ مِنْ أَرْضِ قَوْمِكَ حَيْثُ شِئْتَ ". قَالَ: وَأَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ: " تَكُنْ مُهَاجِرًا "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا فدیک رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جس نے ہجرت نہ کی وہ ہلاک ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے فدیک! نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور برائی کو چھوڑ دو، پھر تمہارا جہاں دل چاہے تو اپنی قوم کی زمین میں رہو۔“ راوی کہتے ہیں کہ میرا یہ خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم یہ کام کرنے والے بن جاؤ گے تو تم مہاجر ہو جاؤ گے۔“