السنن الكبرى للبيهقي
كتاب السير— سیر کا بیان
باب: الرخصة في الإقامة بدار الشرك لمن لا يخاف الفتنة باب: اس شخص کے لیے دارالشرک میں قیام کی اجازت کے بیان میں جسے اپنے دین کے حوالے سے فتنے کا کوئی خوف نہ ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: " ثُمَّ إِنَّ أَبَا الْعَاصِ ⦗٢٦⦘ رَجَعَ إِلَى مَكَّةَ بَعْدَمَا أَسْلَمَ وَلَمْ يَشْهَدْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْهَدًا، ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعْدَ ذَلِكَ فَتُوُفِّيَ فِي ذِي الْحِجَّةِ مِنْ سَنَةِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَوْصَى إِلَى الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وكَانَ يَأْمُرُ جُيُوشَهُ أَنْ يَقُولُوا لِمَنْ أَسْلَمَ: إِنْ هَاجَرْتُمْ فَلَكُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَإِنْ أَقَمْتُمْ فَأَنْتُمْ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ وَلَيْسَ يُخَيِّرُهُمْ إِلَّا فِيمَا يَحِلُّ لَهُمْ.محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو العاص رضی اللہ عنہ اسلام قبول کرنے کے بعد پھر مکہ میں لوٹ آئے اور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کسی غزوے میں شرکت نہ کی۔ اس کے بعد پھر مدینہ میں آئے اور ذی الحجہ سن 12ھ ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وفات پائی اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو وصیت کی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے لشکروں کو حکم دیتے تھے کہ وہ اسلام قبول کرنے والوں سے کہیں کہ ”اگر تم نے ہجرت کی تو تم کو بھی وہی ملے گا جو مہاجرین کو ملتا ہے اور اگر تم نے ہجرت نہ کی تو تم دیہاتی مسلمانوں کی طرح ہو گے اور ان کو وہی کچھ دیا جاتا ہے جو ان کے لیے جائز اور مناسب ہو۔“